رحم کی رسولیاں، ورم اور کثرتِ حیض کا سائنسی ٹول
کثرتِ حیض (Flooding)، خون کے بڑے لوتھڑوں، پیڑو میں بوجھ، اور اینیمیا کی علامات کا جامع تجزیہ اور طبِ یونانی کے تحت سلعہ رحم و ورمِ رحم کا مستند حل۔
مرحلہ ۱: ماہواری کے دوران خون کا بہاؤ اور ایام کی مدت
رحم کی رسولیوں (سلعہ رحم) کی سب سے اہم ابتدائی علامت کثرتِ حیض (Menorrhagia)، لوتھڑوں کا اخراج اور خون کا طویل بہاؤ ہے۔
۷ دن سے طویل اخراج رسولی کے ورم اور کثرتِ حیض کی علامت ہے۔
طبِ یونانی میں یہ رحم کی عروق میں خلطِ غلیظ اور خون کے انجماد و تعفن کی علامت ہے۔
سلعہ رحم (رسولیاں) کیسے بنتی ہیں اور ان کی علامات کیا ہوتی ہیں؟
سب میوکوسل (اندرونی جھلی کی رسولی)
یہ رسولیاں رحم کی اندرونی جھلی (اینڈومیٹریئم) میں اگتی ہیں۔ سائز میں چھوٹی ہونے کے باوجود بے تحاشا خون بہنے، بڑے لوتھڑوں اور خون کی شدید کمی (اینیمیا) کا باعث بنتی ہیں۔
انٹرامیورل (عضلاتی دیوار کی رسولی)
رحم کی موٹی گوشت والی دیوار کے اندر بنتی ہیں۔ ان کے بڑھنے سے رحم کا سائز پھیل جاتا ہے، پیڑو میں مستقل دباؤ اور ماہواری کئی دنوں تک لمبی ہو جاتی ہے۔
سب سیروسل (بیرونی سطح کی رسولی)
رحم کی بیرونی سطح پر اگتی ہیں اور باہر کی طرف پھیلتی ہیں۔ یہ مثانے پر دباؤ ڈال کر پیشاب جلدی لاتی ہیں، اور کمر و مقعد کے پٹھوں پر بوجھ بنتی ہیں۔
طب یونانی میں سلعہ رحم کا اصولِ علاج: تحلیلِ ورم اور تنقیہ رحم
قدیم اطباء (جیسے ابن سینا اور علی ابن عباس مجوسی) کے مطابق، سلعہ رحم دراصل جگر کی سستی اور رحم کی عروق میں سوداوی اور بلغمِ غلیظ رطوبات کے ٹھہراؤ سے وجود میں آتا ہے۔ طب یونانی کا علاج محض آپریشن نہیں بلکہ جگر کی اصلاح، خون کو پتلا و صاف کرنے والے عرقِ مکو و کاسنی، کثرتِ خون کو روکنے والے حبِ مدیر و شربتِ انجبار، اور رسولی کو گھلانے والی قدرتی جڑی بوٹیوں سے مستقل شفاء فراہم کرتا ہے۔