سیلان الرحم، سوزش اور نسوانی انفیکشن کا تشخیصی ٹول
خارش، جلن، بو اور رطوبت کی علامات کی روشنی میں خمیر (Yeast)، بیکٹیریل ویجینوسس (BV)، ٹریکومونیاسس اور پرانے سیلان الرحم (لیکوریا) کی سائنسی تفریق اور طبِ یونانی کا نباتاتی حل۔
مرحلہ ۱: رطوبت کی بناوٹ، رنگت اور مقدار
رطوبت کی ساخت اور رنگت سے فنگل (ییسٹ)، بیکٹیریل یا طبعی سیلان الرحم میں واضح تمیز کی جا سکتی ہے۔
ہر رطوبت کا علاج الگ ہے: ۴ بڑی بیماریوں کی تفریق
خمیر / ییسٹ انفیکشن (Candidiasis)
دہی کی طرح پھٹا ہوا سفید اخراج، شدید خارش اور اندامِ نہانی میں سرخی و جلن۔ عام طور پر بو کے بغیر ہوتا ہے۔
بیکٹیریل ویجینوسس (Bacterial Vaginosis)
پتلا پانی نما سرمئی بہاؤ مع تیز مچھلی جیسی مخصوص بو۔ اس میں خارش کم یا معمولی ہوتی ہے لیکن بو نمایاں ہوتی ہے۔
ٹریکومونیاسس (Trichomoniasis)
جھاگ دار زرد یا سبزی مائل اخراج، ناگوار بو، پیشاب کے دوران تیز جلن اور اندامِ نہانی میں کچے پن کی تکلیف۔
سیلان الرحم بلغمی (Atonic Leukorrhea)
بے بو اور بے خارش سفید یا لیس دار رطوبت۔ رحم کے پٹھوں کی کمزوری (استرخاء) اور خلطِ بلغم کی زیادتی کا نتیجہ۔
طبِ یونانی میں سیلان الرحم کا جامع اصولِ علاج: تنقیہ، تقویت اور آبزن
طبِ یونانی میں سیلان الرحم کا علاج مصنوعی اینٹی بائیوٹکس کے وقتی کورس تک محدود نہیں ہوتا جو جسم کے قدرتی دفاع کو کمزور کر دیں۔ اگر رطوبت سرد و بلغمی ہو تو "معجون سپاری پاک" اور قابض جڑی بوٹیاں رحم کے عضلات کو سمیٹ کر رطوبات کا اخراج روکتی ہیں۔ اگر رطوبت میں جلن، زردی اور خارش ہو تو صفراوی حدت کو توڑنے کیلئے "شربتِ بزوری معتدل" اور پوستِ کیکر و گلِ سرخ کا آبزن (Sitz-bath) فوری سکون بخشتا ہے اور قدرتی مائیکرو فلورا کو بحال کرتا ہے۔