قومی کونسل برائے طب: NCT-REG # QH-47820-A پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن: PHC-REG # R-88529
مطب طلحہ و چشتیہ دواخانہ
مطب طلحہ چشتیہ دواخانہ طب یونانی، نظریہ مفرد اعضاء و سائنسی تحقیق
صفحۂ اول / طبی ٹولز و ٹیسٹس / پی سی او ایس تشخیصی اسکیل (Rotterdam PCOS)
نسوانی تشخیصی سویٹ • Rotterdam Consensus Criteria

پی سی او ایس، رسولیاں اور نسوانی ہارمونز کا سائنسی ٹول

بین الاقوامی روٹرڈیم معیارات (Rotterdam Criteria) اور طبِ یونانی کے امتحانی قواعد کے تحت ماہواری کی بے قاعدگی، چہرے کے زائد بال، الٹراساؤنڈ رسولیوں اور انسولین مزاحمت کی مستند جانچ۔

مرحلہ 1 از ۴ ماہواری اور حیض کی تاریخ

مرحلہ ۱: ماہواری کا وقفہ، تسلسل اور تاریخ

پی سی او ایس کا پہلا روٹرڈیم تشخیصی معیار بیضہ ریزی میں تعطل یا ماہواری کی تاخیر ہے۔

28 دن
۲۱ تا ۲۸ دن (طبعی) ۳۵ دن (حدِ فاصل) ۶۰ دن ۹۰+ دن (شدید تاخیر)
حیض کے دوران شدید درد / اینٹھن پیٹ کے نچلے حصے یا کمر میں تنگی
پی سی او ایس کی ۴ کلینیکل اقسام

ہر مریضہ کا پی سی او ایس ایک جیسا نہیں ہوتا: سائنسی فینوٹائپس کا مفہوم

A

فینوٹائپ الف (مکمل پی سی او ایس)

تینوں علامات موجود ہوتی ہیں: بیضہ ریزی کی شدید بندش، چہرے پر سخت بال، اور الٹراساؤنڈ پر رسولیاں۔ میٹابولک بگاڑ سب سے زیادہ ہوتا ہے۔

B

فینوٹائپ ب (ہارمونل تاخیر)

ماہواری کی بندش اور مردانہ ہارمونز کی زیادتی، مگر الٹراساؤنڈ پر بڑی رسولیاں نظر نہیں آتیں۔ ہارمونل توازن بحال کرنا بنیادی ہدف ہے۔

C

فینوٹائپ ج (الٹراساؤنڈ خرد رسولیاں)

الٹراساؤنڈ پر رسولیاں اور ماہواری میں تعطل، لیکن چہرے پر بال یا ایکنی نہیں ہوتی۔ نباتاتی ادویہ سے رسولیاں تحلیل ہو جاتی ہیں۔

D

فینوٹائپ د (ہلکا یا ابتدائی بگاڑ)

ماہواری بظاہر باقاعدہ ہوتی ہے لیکن الٹراساؤنڈ پر ہلکی سسٹس اور وقتی ہارمونل اتار چڑھاؤ پایا جاتا ہے۔