قومی کونسل برائے طب: NCT-REG # QH-47820-A پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن: PHC-REG # R-88529
مطب طلحہ و چشتیہ دواخانہ
مطب طلحہ چشتیہ دواخانہ طب یونانی، نظریہ مفرد اعضاء و سائنسی تحقیق
16 Sep, 2026
⏱ 4 منٹ مطالعہ • 👁 4 مشاہدات

ضعفِ معدہ، تبخیر اور دائمی بدہضمی: قدرتی نباتات سے نظام ہضم کی بحالی

پیٹ کا پھولنا، کھٹے ڈکار اور غذا کا صحیح طور پر ہضم نہ ہونا۔ نظریہ مفرد اعضاء کے تحت اعصابی و عضلاتی کمزوری کا مستقل نباتاتی حل۔
ح
حکیم محمد مزمل صدیقی (Chief Physician & Admin)
فاضل طب و جراحت (FTJ)، ماہر نبض و مزاج، رجسٹرڈ طبیب قومی کونسل برائے طب
شیئر

معدہ تمام امراض کا گھر اور شفا کا سرچشمہ

حکماء یونان کا متفقہ فیصلہ ہے کہ "المعدۃ بیت الداء" یعنی تمام بیماریوں کی جڑ معدہ ہے۔ اگر کھانا صحیح وقت پر اور مناسب مقدار میں ہضم نہ ہو تو وہ پیٹ میں سڑ کر فاسد مادے اور گیسز پیدا کرتا ہے، جسے طبی اصطلاح میں تبخیر معدہ کہتے ہیں۔

معدے کی اصلاح کے سنہری اصول

کھانے کے درمیان پانی پینے سے گریز کریں، چبا چبا کر کھائیں اور کھانے کے بعد فوری سونے کے بجائے چند قدم چہل قدمی کریں۔ اگر تیزابیت ہو تو اجوائن، پودینہ اور سونف کا قہوہ قدرتی معجزہ ثابت ہوتا ہے۔ جوارش کمونی اور حب کبد نوشادری معدے کے عضلات کو مضبوط کر کے مستقل تندرستی لوٹاتی ہیں۔

⚠️
اہم طبی انتباہ و دستبرداری: یہ مضمون خالصتاً معلوماتی، سائنسی و تعلیمی مقاصد کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ کسی بھی نسخے یا جڑی بوٹی کے مستقل استعمال سے پہلے اپنے مستند معالج یا حکیم صاحب سے باقاعدہ تشخیص و نبض شناسی کروانا ضروری ہے۔
یہ طبی تحقیق شیئر کریں:
ح

حکیم محمد مزمل صدیقی (Chief Physician & Admin)

NCT REG# QH-47822-A

مطب طلحہ اینڈ چشتیہ دواخانہ میں ہم گزشتہ 12 برسوں سے نظریہ مفرد اعضاء اور روایتی طب یونانی کے زریں اصولوں پر کاربند ہیں۔ ہمارا پختہ ایمان ہے کہ شفا محض علامات کو دبانے کا نام نہیں، بلکہ جسم کے اندرونی اخلاط (دم، صفرا، بلغم اور سودا) کے بگاڑ کو درست کرنے میں ہے۔ ہم مریض کی نبض، قارورہ اور طبعی کیفیات کے باریک بین معائنے کے بعد اپنے شفاخانے میں تیار کردہ خالص، بے ضرر اور کیمیاوی ملاوٹ سے پاک نباتاتی ادویات تجویز کرتے ہیں تاکہ طبیعتِ مدبرہٴ بدن خود بخود بیماری کا دفاع کر کے دائمی صحت لوٹا سکے۔

متعلقہ طبی مضامین و تحقیقات

تمام دیکھیں ←
تشخیصِ مزاج و اخلاط اربعہ

علمُ التشخیص: آنکھ سے تشخیص اور آئیریڈالوجی

یہ مضمون علمُ التشخیص میں آنکھ کے معائنے کی اہمیت کا جائزہ پیش کرتا ہے۔ اس میں طبِ یونانی، آیوروید، روایتی چینی طب (TCM)، قانونِ مفرد اعضاء اور آئیریڈالوجی کے تصورات کا تقابلی مطالعہ شامل ہے۔ آنکھ کی رنگت، سفیدی، پتلی اور دیگر ظاہری علامات کو روایتی طبی نظریات کے تناظر میں بیان کیا گیا ہے، جبکہ آئیریڈالوجی کے ذریعے آنکھ کی پتلی کے نشانات سے جسمانی اعضاء کی حالت جاننے کے دعووں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ مضمون میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ روایتی نظریات اور جدید سائنسی شواہد میں فرق ملحوظ رکھنا ضروری ہے اور تشخیص کے لیے مستند طبی معائنے اور تحقیق کی اہمیت بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔