قومی کونسل برائے طب: NCT-REG # QH-47820-A پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن: PHC-REG # R-88529
مطب طلحہ و چشتیہ دواخانہ
مطب طلحہ چشتیہ دواخانہ طب یونانی، نظریہ مفرد اعضاء و سائنسی تحقیق
22 Sep, 2026
⏱ 4 منٹ مطالعہ • 👁 4 مشاہدات

موسمِ گرما، گرمی جگر اور یرقان: اسباب، علامات اور مجرب نباتاتی تدابیر

شدید گرمی اور مرغن غذاؤں کے نتیجے میں جگر کی حدت، پیاس کی شدت، پیشاب کی جلن اور ضعف ہضم کے لیے مستند طبی نسخہ جات اور احتیاطی تدابیر۔
ح
حکیم محمد مزمل صدیقی (Chief Physician & Admin)
فاضل طب و جراحت (FTJ)، ماہر نبض و مزاج، رجسٹرڈ طبیب قومی کونسل برائے طب
شیئر

گرمی جگر اور صفراوی بگاڑ کی علامات

موسم گرما میں جب درجہ حرارت بڑھتا ہے اور مرغن، تلی ہوئی غذاؤں کا استعمال جاری رہتا ہے تو جگر کے غدی افعال میں شدید تیزی آ جاتی ہے۔ اس کی عام علامات میں منہ کا ذائقہ کڑوا ہونا، آنکھوں میں زردی کی جھلک، ہتھیلیوں اور تلووں میں جلن، اور شدید گھبراہٹ شامل ہیں۔

مجرب نباتاتی مفردات و مرکبات

  • تخم کاسنی و مکو: جگر کے سدے کھولنے اور ورم جگر دور کرنے کا بے نظیر علاج۔
  • شربت بزوری معتدل: گردوں اور مثانے کی جلن ختم کرنے اور صفرا کو پیشاب کے راستے خارج کرنے کے لیے اکسیر۔
  • تخم ملنگا اور گوند کتیرا: معدہ اور انتڑیوں کو ٹھنڈک پہنچانے والے قدرتی تریاق۔

مطب طلحہ کے کلینک میں تمام نسخہ جات مریض کے انفرادی مزاج کو مدنظر رکھ کر تجویز کیے جاتے ہیں۔

⚠️
اہم طبی انتباہ و دستبرداری: یہ مضمون خالصتاً معلوماتی، سائنسی و تعلیمی مقاصد کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ کسی بھی نسخے یا جڑی بوٹی کے مستقل استعمال سے پہلے اپنے مستند معالج یا حکیم صاحب سے باقاعدہ تشخیص و نبض شناسی کروانا ضروری ہے۔
یہ طبی تحقیق شیئر کریں:
ح

حکیم محمد مزمل صدیقی (Chief Physician & Admin)

NCT REG# QH-47822-A

مطب طلحہ اینڈ چشتیہ دواخانہ میں ہم گزشتہ 12 برسوں سے نظریہ مفرد اعضاء اور روایتی طب یونانی کے زریں اصولوں پر کاربند ہیں۔ ہمارا پختہ ایمان ہے کہ شفا محض علامات کو دبانے کا نام نہیں، بلکہ جسم کے اندرونی اخلاط (دم، صفرا، بلغم اور سودا) کے بگاڑ کو درست کرنے میں ہے۔ ہم مریض کی نبض، قارورہ اور طبعی کیفیات کے باریک بین معائنے کے بعد اپنے شفاخانے میں تیار کردہ خالص، بے ضرر اور کیمیاوی ملاوٹ سے پاک نباتاتی ادویات تجویز کرتے ہیں تاکہ طبیعتِ مدبرہٴ بدن خود بخود بیماری کا دفاع کر کے دائمی صحت لوٹا سکے۔

متعلقہ طبی مضامین و تحقیقات

تمام دیکھیں ←
تشخیصِ مزاج و اخلاط اربعہ

علمُ التشخیص: آنکھ سے تشخیص اور آئیریڈالوجی

یہ مضمون علمُ التشخیص میں آنکھ کے معائنے کی اہمیت کا جائزہ پیش کرتا ہے۔ اس میں طبِ یونانی، آیوروید، روایتی چینی طب (TCM)، قانونِ مفرد اعضاء اور آئیریڈالوجی کے تصورات کا تقابلی مطالعہ شامل ہے۔ آنکھ کی رنگت، سفیدی، پتلی اور دیگر ظاہری علامات کو روایتی طبی نظریات کے تناظر میں بیان کیا گیا ہے، جبکہ آئیریڈالوجی کے ذریعے آنکھ کی پتلی کے نشانات سے جسمانی اعضاء کی حالت جاننے کے دعووں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ مضمون میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ روایتی نظریات اور جدید سائنسی شواہد میں فرق ملحوظ رکھنا ضروری ہے اور تشخیص کے لیے مستند طبی معائنے اور تحقیق کی اہمیت بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔