اعضاء رئیسہ اور مفرد بافتوں کا باہمی ربط
نظریہ مفرد اعضاء علم طب میں وہ انقلابی سائنسی نظریہ ہے جو بیماری کو کسی ایک عضو کا روگ سمجھنے کے بجائے پورے جسمانی نظام کی بافتوں کے توازن کا مطالعہ کرتا ہے۔ انسانی جسم بنیادی طور پر تین مفرد اعضاء کے گرد گھومتا ہے: دماغ و اعصاب، دل و عضلات، اور جگر و غدد۔
تحریک، تسکین اور تحلیل کا قانون
جب کسی ایک مفرد عضو میں غیر طبعی تحریک واقع ہو جائے تو دوسرا عضو تسکین (سکون یا کمزوری) میں چلا جاتا ہے اور تیسرا تحلیل (گھلنے) کے مرحلے میں داخل ہو جاتا ہے۔ طبیب حاذق کا کمال یہ ہے کہ وہ نبض، قارورہ اور علاماتِ مرید کے ذریعے اصل محرک عضو کی شناخت کرے اور علاج بالضد یا علاج بالمفرد کے سائنسی اصول پر توازن بحال کرے۔
روایتی نبض شناسی اور پرہیز کا کردار
دوا کے ساتھ ساتھ غذا سب سے بڑی شفا ہے۔ اگر مریض کی تحریک عضلاتی ہے تو اسے غدی یا اعصابی غذائیں تجویز کی جاتی ہیں تاکہ بغیر کسی سائیڈ ایفیکٹ کے مریض کا خلطی توازن بحال ہو سکے۔