قومی کونسل برائے طب: NCT-REG # QH-47820-A پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن: PHC-REG # R-88529
مطب طلحہ و چشتیہ دواخانہ
مطب طلحہ چشتیہ دواخانہ طب یونانی، نظریہ مفرد اعضاء و سائنسی تحقیق
09 Sep, 2026
⏱ 6 منٹ مطالعہ • 👁 3 مشاہدات

بانجھ پن اور جنسی صحت: جدید سائنسی ٹیسٹ اور روایتی طب یونانی کے بے مثال نتائج

اولاد کی نعمت سے محروم جوڑوں کے لیے سائنسی رہنمائی: ہارمونز کی خرابی، پی سی او ایس اور مادہ تولید کے نقائص کا قدرتی اور محفوظ علاج۔
ح
حکیم محمد مزمل صدیقی (Chief Physician & Admin)
فاضل طب و جراحت (FTJ)، ماہر نبض و مزاج، رجسٹرڈ طبیب قومی کونسل برائے طب
شیئر

تولیدی صحت اور مزاجی بگاڑ کا جائزہ

بانجھ پن کوئی لا علاج مرض نہیں بشرطیکہ اس کے اصل اسباب کا پتہ لگایا جائے۔ خواتین میں سائلین الرحم (لیکوریا)، انڈوں کی کمزوری، یا پی سی او ایس (PCOS) اور مردوں میں سپرم کاؤنٹ کی کمی یا پس سیلز کا آنا خلطی عدم توازن کے نتیجے میں ہوتا ہے۔

مطب طلحہ کا مخصوص طبی پروٹوکول

ہمارے ہاں سب سے پہلے سیمن اینالسس یا الٹراساؤنڈ رپورٹس کی جانچ کی جاتی ہے، پھر مریض کے موروثی مزاج کے موافق مقوی باہ اور مصفی خون مرکبات دیے جاتے ہیں جو خلیات کو نئی توانائی بخشتے ہیں اور قدرتی استقرارِ حمل کی راہ ہموار کرتے ہیں۔

⚠️
اہم طبی انتباہ و دستبرداری: یہ مضمون خالصتاً معلوماتی، سائنسی و تعلیمی مقاصد کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ کسی بھی نسخے یا جڑی بوٹی کے مستقل استعمال سے پہلے اپنے مستند معالج یا حکیم صاحب سے باقاعدہ تشخیص و نبض شناسی کروانا ضروری ہے۔
یہ طبی تحقیق شیئر کریں:
ح

حکیم محمد مزمل صدیقی (Chief Physician & Admin)

NCT REG# QH-47822-A

مطب طلحہ اینڈ چشتیہ دواخانہ میں ہم گزشتہ 12 برسوں سے نظریہ مفرد اعضاء اور روایتی طب یونانی کے زریں اصولوں پر کاربند ہیں۔ ہمارا پختہ ایمان ہے کہ شفا محض علامات کو دبانے کا نام نہیں، بلکہ جسم کے اندرونی اخلاط (دم، صفرا، بلغم اور سودا) کے بگاڑ کو درست کرنے میں ہے۔ ہم مریض کی نبض، قارورہ اور طبعی کیفیات کے باریک بین معائنے کے بعد اپنے شفاخانے میں تیار کردہ خالص، بے ضرر اور کیمیاوی ملاوٹ سے پاک نباتاتی ادویات تجویز کرتے ہیں تاکہ طبیعتِ مدبرہٴ بدن خود بخود بیماری کا دفاع کر کے دائمی صحت لوٹا سکے۔

متعلقہ طبی مضامین و تحقیقات

تمام دیکھیں ←
تشخیصِ مزاج و اخلاط اربعہ

علمُ التشخیص: آنکھ سے تشخیص اور آئیریڈالوجی

یہ مضمون علمُ التشخیص میں آنکھ کے معائنے کی اہمیت کا جائزہ پیش کرتا ہے۔ اس میں طبِ یونانی، آیوروید، روایتی چینی طب (TCM)، قانونِ مفرد اعضاء اور آئیریڈالوجی کے تصورات کا تقابلی مطالعہ شامل ہے۔ آنکھ کی رنگت، سفیدی، پتلی اور دیگر ظاہری علامات کو روایتی طبی نظریات کے تناظر میں بیان کیا گیا ہے، جبکہ آئیریڈالوجی کے ذریعے آنکھ کی پتلی کے نشانات سے جسمانی اعضاء کی حالت جاننے کے دعووں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ مضمون میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ روایتی نظریات اور جدید سائنسی شواہد میں فرق ملحوظ رکھنا ضروری ہے اور تشخیص کے لیے مستند طبی معائنے اور تحقیق کی اہمیت بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔